کبھی ہنستی ہیں یہ، تو کبھی اشکبار ہیں آنکھیں

Poet: Mubashir jameel By: Mubashir Jameel , Karorpakka

کبھی ہنستی ہیں یہ، تو کبھی اشکبار ہیں آنکھیں
کسی کے لوٹ آنے کا، بس انتظار ہیں آنکھیں

بھروسہ ٹوٹ جائے تو، چمک بھی کھو سی جاتی ہے
محبت میں کبھی رسوا، کبھی خوار ہیں آنکھیں

یہ اپنے دکھ چھپانے میں، بڑی ماہر ہیں دنیا سے
مگر اندر سے کتنا ہی، بے قرار ہیں آنکھیں

تھکن چہرے پہ آتی ہے، مگر یہ جاگتی رہتی ہیں
کسی کی یاد میں شاید، لاچار ہیں آنکھیں

جو اپنے دل میں حسرت ہو، وہ پڑھ لیتی ہے دنیا بھی
ہمارے حالِ دل کا اب، اشتہار ہیں آنکھیں

جو خوشخبریاں سناتا تھا سب کو بستی میں
مبشرؔ آج تری کیوں بے زار ہیں آنکھیں

Rate it:
Views: 139
25 Feb, 2026
More Love / Romantic Poetry