کس کے جلوؤں کا ہے یہ نُور ذرا دیکھو تو
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreکس کےجلوؤں کا ہے یہ نور۔۔۔۔۔ ذرا دیکھو تو
کون آیا ہے سرِ طور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھو تو
کتنے پردوں سے نکل کر۔۔۔۔۔۔۔سرِ منظر آیا
جھٹ سے پھر ہو گیا مستور۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھو تو
وہ بھی چاہے تو میں آزاد ۔۔۔۔۔۔۔نہیں ہو سکتا
جس کی یادوں میں ہوں محصور۔۔۔ ذرا دیکھو تو
ہم نہ اُٹھیں گے تیرے در سے کسی بھی صورت
عشق بھی ہو گیا مغرور ۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا دیکھو تو
حشر میں ہو گی ملاقات۔۔۔۔۔ چلو یوں ہی سہی
ہم کو ہر شرط ہے منظور۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھو تو
ہم نہ سنبھلے تھے ابھی تیرِ نظر سے ۔۔۔تیرے
وار پھر کر دیا بھر پور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھو تو
میرالاشہ بھی تڑپتے نہیں۔۔۔۔۔۔۔ دیکھا جاتا
کس قدر حسن ہے مجبور۔۔۔۔۔۔۔ ذرادیکھو تو
پاس تو کچھ بھی نہیں دل کی ۔۔۔۔سیاہی کے سوا
چاہتا ہوں کہ ملےحور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھ تو
جس قدر ڈر تھا مجھے۔۔۔۔۔۔ عشق کی رسوائی کا
اُس قدر ہو گیا مشہور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا دیکھ تو
ہم نے ماناکہ بہت دور ہے منزل ۔۔۔۔۔تیری
آ گئے ہم بھی بہت دور۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھ تو
تم سے شکوہ تو نہیں ہے ۔۔۔۔مگر اے جانِ وفا
آئینہ دل کا ہوا چُور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھو تو
کس نے دیکھا ہے مجھے مست نگاہوں سے وؔسیم
کس نے پھر کر دیا مخمور ۔۔۔۔۔۔۔ذرا دیکھو تو
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






