کسی سے شکوہ کیوں کریں ہم

Poet: جہانزیب کنجاہی By: jahanzeb kunjahi, Karachi

کسی سے شکوہ کیوں کریں ہم
کسی کا گلہ کیوں کریں ہم

ایک بار تو آزما چکے ہیں
اب یقیں دوبارہ کیوں کریں ہم

تمنا ہی تمہیں پانے کی کی ہے
غیر کا تقاضہ کیوں کریں ہم

جہاں کام اشاروں سے چلتا ہو
وہاں ہاتھ پسارا کیوں کریں ہم

جمال جھیلے ہیں یہی کافی ہے
تمہارے ناز گوارہ کیوں کریں ہم

تم کسی کے ہو تمہیں چھین کر
زبردستی اپنا کیوں کریں ہم

جینے کی وجہ نہیں رہی تو
مرنے کی تمنا کیوں کریں ہم

تم نہیں ملے تو نہ سہی
اپنا حال برا کیوں کریں ہم

جب پتہ ہے آتش ہے عشق
پھر دوستانہ کیوں کریں ہم

بلاوجہ کیوں مرجائیں کسی پر
بلاوجہ یہ خطا کیوں کریں ہم

تمہاری خاطر کیوں لڑیں ہم
خدا سے جھگڑا کیوں کریں ہم

ایک دو غم ہو تو سہہ لیں
عمر بھر گزارہ کیوں کریں ہم
 

Rate it:
Views: 1345
14 Jan, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL