کشتی میں ٹھہرنا بھی مناسب نہیں ہوگا
Poet: اسرار دانش By: اسرار دانش , Patnaکشتی میں ٹھہرنا بھی مناسب نہیں ہوگا
طوفاں میں اترنا بھی مناسب نہیں ہوگا
ہر زخم تر و تازہ رہے اچھا نہیں ہے
ہر زخم کا بھرنا بھی مناسب نہیں ہوگا
دشواری تکمیل وفا جان رہا ہوں
وعدے سے مکرنا بھی مناسب نہیں ہوگا
گھر لوٹ کے جانا بھی خطرناک بہت ہے
صحرا میں ٹھہر نا بھی مناسب نہیں ہوگا
تکمیل تمنا کی تو صورت بھی نہیں ہے
خوابوں کا بکھرنا بھی مناسب نہیں ہوگا
اواز زنجیر میں وحشت بھی بہت ہے
حالات سے ڈرنا بھی مناسب نہیں ہوگا
دنیا میں تگ و دو بھی ضروری ہے بہت
شعلوں پہ گزرنا بھی مناسب نہیں ہوگا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






