کوئی غمگسار ہوتا

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 نہ سکون دل کا لٹتا ، نہ فنا قرار ہوتا
جو ترے جمال رخ پر نہ یہ دل نثار ہوتا

کبھی راز دل نہ محفل میں یوں آشکار ہوتا
تو جہان میں ستم گر ! جو وفا شعار ہوتا

مرا دل غم و الم سے جو نہ داغدار ہوتا
یہ حیات کا چمن بھی نہ یوں پر بہار ہوتا

جو قدم قدم پہ ملتا ، مجھے بے غرض جہاں میں
یہی آرزو تھی ایسا کوئی غمگسار ہوتا

مری بات جو کہ سنتا ، مری بات مانتا جو
مرے جذبہ وفا کا جسے اعتبار ہوتا

مرے سامنے عدو سے سر بزم گفتگو ہے
نہ ٹھہرتا اس جگہ پر، اگر اختیار ہوتا

مری بیکسی نے دن یہ مجھے آج ہیں دکھائے
کوئی اپنا ملتا مجھ کو تو میں با وقار ہوتا

یہ تڑپ ہمیشہ رہتی ، یہ کسک ہمیشہ ہوتی
ترے ساتھ ربط دل کا جو نہ پائدار ہوتا

کبھی تشنگی نہ رومی کو جہان میں یوں ہوتی
ترے میکدے کا ساقی ! جو یہ بادہ خوار ہوتا

Rate it:
Views: 498
30 Apr, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL