کوئی نازک دل آرائی بہت ہے

Poet: NADEEM MURAD By: nadeem murad, umtata RSA

کوئی نازک دل آرائی بہت ہے
نہ کی جائے کہ رسوائی بہت ہے

یہ اب جانا کہ ہرجائی تو ہم ہیں
تجھے سمجھے تھے ہرجائی بہت ہے

اگرچہ ہے خبر ہے روح پرور
ڈراتی ہم کو تنہائی بہت ہے

ہیں جام آنکھیں تو مے آنسو ہی ہونگے
تو مے ہم نے بھی چھلکائی بہت ہے

شُگفتہ پھول بن جانے کی حسرت
کلی کملائی مرجھائی بہت ہے

وفا کا قتل اور معافی یہ کیا ہے
بھلا کیوں تم میں اچھائی بہت ہے

یہ سب تقدیر کا ہے کھیل جاناں
ملی دونوں کو تنہائی بہت ہے

گھڑی تھی ہم نے جو وہ بات جھوٹی
در آئی اس میں سچائی بہت ہے

ہے لگتی جتنی بے پرواہ یہ دنیا
حقیقت میں تماشائی بہت ہے

ہمیشہ ہم نے کی توصیف اپنی
خطا دوجے کی دھرائی بہت ہے

وہی ہیں لفظ جو سب بولتے ہیں
مری باتوں میں گہرائی بہت ہے

ندؔیم اب جاکے جنگل ہی بساؤ
شہر میں آبلہ پائی بہت ہے

 

Rate it:
Views: 529
22 Sep, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL