میں ہوں جیسا بھی مرے ساتھ گزارہ کرنا
Poet: AB shahzad By: AB shahzad, Mailsiمیں ہوں جیسا بھی مرے ساتھ گزارہ کرنا
میرے ماں باپ کو تو بس نہ ستایا کرنا
بڑے نازوں سے انہوں نے تجھے پالا ہے سنو
روٹھ جائیں بھی اگر ہنس کے منایا کرنا
جب کسی چیز کی مرے یار طلب ہو تم کو
کرتا بے لوث محبت ہوں اشارہ کرنا
مت کہوں موم مجھے اتنی رعونت نہیں ہے
جتنا ممکن ہو سکے مجھ سے کنارہ کرنا
یاد آئیں گے بہت ایک نہ اک دن تم کو
اپنے ماں باپ کو سینے سے لگایا کرنا
جب بلاؤں میں چلے دوڑ کے ہی آنا تم
اب کبھی کوئی نہ تم یار بہانہ کرنا
بھولا شہزاد نہیں لمس ترے چھونا وہ
یاد ہے پھول وہ زلفوں میں سجایا کرنا
اےبی شہزاد میلسی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






