کوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعد

Poet: عادل فرحت By: مصدق رفیق, Karachi

کوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعد
کہ ایک شخص نہ بھایا ترے وصال کے بعد

اسے ملال کہ میں نے اسے چھوا ہی نہیں
مجھے ملال کہ اس نے کہا ملال کے بعد

کبھی بھی عشق جو کرنا تو سوچ کر کرنا
یہ تجربہ ہے مرا یار اپنے حال کے بعد

برہنہ روح تھی جب تک کوئی تماشہ نہ تھا
یہ سب شروع ہوا ایک خد و خال کے بعد

عجیب رنگ دکھائے ہیں عشق نے تیرے
کہ میں عروج پہ آیا مرے زوال کے بعد

ترے وصال سے نکلا تو ہجر ٹوٹ پڑا
میں پھر سے جال میں آیا ہوں ایک جال کے بعد
 

Rate it:
Views: 197
04 Mar, 2025