کومل پَری کوئی خاص ایسی تنصیف ہے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaکومل پَری کوئی خاص ایسی تنصیف ہے
شکوے محبت کے جس میں حُسنِ تعریف ہے۔
اِس محفل میں چرچے ہیں بے وفاؤں کے
وفادار تو کوئی کوئی ہی شریک ہے
بیان ہے شروع میں جن کے ظلم وستم
آخر میں دیکھئیے وہ ہی شریف ہے
سُنا ہے آپ بھی جانتے ہیں شعروشاعری
بتایئے گا کہاں قافیہ اور کہاں ردیف ہے
جس کی خاطر کی یہ تمام کاوشیں
بڑے آرام سے بولے وہ بس ٹھیک ہے
میرے ارمانوں کا ہوا جو سرعام قتل
قسمت کالکھاری بھی پورا پورا شریک ہے
بیٹی کے جہیز کے مسائل بیان ہے اِس میں
ماں مرحوم جس کی ، باپ ضیئف ہے
کس سے طلب کروں دوا عشق کی مَیں
متبلا اِس مرض میں خود ہی طبعیب ہے
فقط اِک اور وار کرو دل میرے پے ذرا
بس اب دیکھو یہ مرنے کے قریب ہے
درد کی شدت کوئی دوسرا کیا جانے گا
یہ تو وہی جانے جو یہاں متبلا تکلیف ہے
جو بھی سنتا ہے ہسنے لگتا ہے قہکوں میں
میری داستان افسردا ہے یا کہ ظریف ہے
جی تو رہا ہے ترے بغیر بھی وہ شاعر
مگر نہال زندہ بھی بے جان کے حریف ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






