کچھ آج بھی کہتے ہیں مسلمان مری جاں

Poet: ابنِ مفتی By: سید اے مفتی, houston

کچھ آج بھی کہتے ہیں مسلمان مری جاں
کافر ہیں سبھی شہر کے انسان مری جاں

لگتا ہے کہ فرصت سے تجھے رب نے بنایا
مبہوت جو ہر ایک ہے انسان مری جاں

وہ ایک ہے جسکے ہے مقدر میں ہزیمت
کشتی ہے مری اور ہے طوفان مری جاں

آلام جدائی سے کہاں مجھ کو افاقہ
کچھ اور کرو درد مجھے دان مری جاں

ہو نیند جہاں موت کی مانند وہاں پر
کب دیکھنا پھر خواب ہے آسان مری جاں

دل چیز ہے کیا نذر تری جان بھی کی ہے
اب کتنا ادا اور ہو تاوان مری جاں

یہ عشق کا جذبہ ہے جو ہم ملنے لگے ہیں
ورنہ تھی کہاں جان یا پہچان مری جاں

انسان کو انسان ، سمجھتے نہیں یکسر
ہیں ایسے بڑے شہر میں انسان مری جاں

ہر ایک تمہارا ہی ، طلبگار لگے ہے
ہو حسن کی دولت سے بھری کان مری جاں

مقطع لئے مفتی جو ترے کوچے میں آیا
مطلع تھا مرے فکر کا عنوان مری جاں

Rate it:
Views: 182
09 Mar, 2023
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL