کچھ اور بات ھوتی

Poet: Unknown By: M.Z, karachi

تجھے دیکھتی ھیں آنکھیں تو یہ بولتی ھیں آنکھیں
تو جو کاش اشک ھوتی تو کچھ اور بات ھوتی

تجھے ھر خوشی میں اپنی میری آنکھ ڈھونڈتی ھے
یہ جو سب سے چھپ کے روتی تو کچھ اور بات ھوتی

تجھے سامنے بیٹھا تو یہ آنکھ نا جھپکی
تجھے تکتے تکتے سوتی تو کچھ اور بات ھوتی

تیرے گرتے آنسو کو جو میں ھاتھ سے مٹاتا
پھر تو روتے روتے ھنستی تو کچھ اور بات ھوتی

میری آنکھ جب بھی کھلتی تیری دید کو ترستی
بنا آنسو کے روتی تو کچھ اور بات ھوتی

میرے دل کی ھر یہ دھڑکن تجھے یاد اب بھی کرتی
تیرے نام سے دھڑکتی تو کچھ اور بات ھوتی

میرے بھتے آنسو نے تجھے ھر دعا میں مانگا
بس دعا قبول ھوتی تو کچھ اور بات ھوتی

تیرا یوں بچھڑ کے جانا میرے ھاتھ کو چھڑا کر
تو جو جاتے جاتے رکتی تو کچھ اور بات ھوتی

مجھے عشق نے رلایا تجھے عشق نے ھنسایا
کبھی تو بھی یوں تڑپتی تو کچھ اور بات ھوتی

تھی ضھیر کی تمنا کہ یہ سانس چلتے چلتے
تیرے بازؤں پہ رکتی تو کچھ اور بات ھوتی

Rate it:
Views: 693
11 Jan, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL