کچھ خواب بھی تھے ایسے کہ خواب ہی رہہ گئے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکچھ خواب بھی تھے ایسے کہ خواب ہی رہہ گئے
تیرے بچھڑنے کے بعد تو عذاب ہی رہہ گئے
میں میرے ہی مرضی کو پھر کہاں چھُو سکا
کئی لب خاموشاں وہ حجاب ہی رہہ گئے
ہر موسم نے گلستانوں پر رنج ڈھائے پھر بھی
کچھ اجڑے تو کچھ شاداب ہی رہہ گئے
تعین کیئے وعدے بدلیں تو لگتا ہے کہ
زندگی میں اب بھی جیسے مذاق ہی رہہ گئے
جتنی شب اتنے بڑے سپنے دیکھتا ہوں
گذری یادوں کے پَل پُرثبات ہی رہہ گئے
تیرے محبت کا پھر دلیل کیا دوں سنتوشؔ
میری ہر الجھن کے تو اسباب ہی رہہ گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






