کچھ دیپ محبت کے جلانے کے لیے آ
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: شاہد علی خان, Karachiکچھ دیپ محبت کے جلانے کے لیے آ
آ پھر سے کوئی شام سجانے کے لیے آ
بے رنگ سا امبر ہے کئی بیتے ہیں ساون
پھر کوئی دھنک مجھ کو دِکھانے کے لیے آ
میں دشت کی مٹی ہوں تو پربت کا ہے جھرنا
آ میری کبھی پیاس بجھانے کے لیے آ
فرقت کا یہ موسم مرا دم گھونٹ رہا ہے
سانسوں سے مری سانس ملانے کے لیے آ
جاتے ہوئے کہہ جانا کہ ہم پھر سے ملیں گے
جھوٹی ہی سہی آس لگانے کے لیے آ
مایوس سا پنچھی ہے نشیمن میں جو بیٹھا
تو اس کو فضاؤں میں اڑانے کے لیے آ
میں ایک زمانے سے ہوں بیگانہ سا خود سے
تو مجھ کو مرا حال سنانے کے لیے آ
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






