تما شا بنایا ہے ھم کو جہاں نے
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotتما شا بنایا ہے ھم کو جہاں نے
تری یاد سے اب نکلنا پڑے گا
مسیحا تھا سمجھا جسے ھم نے یارو
وہی نکلا قاتل مری آرزو کا
زمانہ بھلا دے گا پل بھر میں ہم کو
مگر تیری خاطر پگھلنا پڑے گا
تما شا بنایا ہے ھم کو جہاں نے
تری یاد سے اب نکلنا پڑے گا
نہیں چاہیے اب یہ دولت یہ شہرت
تمنا نہیں ہے ہمیں اب تمہاری
بھلا کے تجھے میں بہت خوش ہوا ہوں
مگر تیری خاطر تڑپنا پڑے گا
تما شا بنایا ہے ھم کو جہاں نے
تری یاد سے اب نکلنا پڑے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






