کہ مجھے چمکنا آگیا ہے
Poet: MARIA.GHOURRI By: MARIA GHOURI, HAROONABADدیکھ مجھے اب تیرے
بن جی رہی ہوں
کہ اب مجھے جینا آگیا ہے
دیکھ مجھے آنسو
پی رہی ہوں
کہ اب مجھے آنسو پینا آگیا ہے
تو کیا سمجھتا تھا بن تیرے بکھر جاؤں گی میں
دیکھ مجھے میں چل رہی ہوں
کہ اب مجھے سنبھلنا آگیا ہے
وہ زمانے پرانے ہو گئے
جب میں تیری جدائی
میں روتی تھی
دیکھ مجھے ہجر کا سر
باندھتے
کہ اب مجھے ہجر گیت گانا آگیا ہے
اپنے سارے آنسو موم کی پلکوں پر سجا دیے میں نے
دیکھ مجھے روشن ہوں
میں
کہ اب مجھے چمکنا آگیا ہے
ہاں! میں مانتی ہوں
میں جھوٹے دعوے کر رہی ہوں
(ہاں! میں مانتی ہوں
بہت ٹوٹ جاتی ہوں تیری جدائی میں)
لیکن دیکھ مجھے اکڑتے
کہ مجھے اب اکڑنا آگیا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






