کہاں کا لطف، مراسم میں گر جفا ہی نہیں
Poet: Shahid Hasrat By: Shahid Hasrat, Multanکہاں کا لطف، مراسم میں گر جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
لکھا گیا ہے مقدر میں شہرِ دل کے یہی
اجڑ گیا ہے جو اک بار، پھر بسا ہی نہیں
وہ اشک جس کو نہ دامن کوئی نصیب ہوا
وہ اشک ، گوہرِ نایاب میں ڈھلا ہی نہیں
تمہارے لوٹ کے آنے کی آس کیا ٹوٹی
پھر اس کے بعد دیا طاق پر دھرا ہی نہیں
جکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی آسیب نے مرے دل کو
ہے کیسا شہرِ خموشاں ، کوئی صدا ہی نہیں
یہ زندگی بھی عجب رہ گزار ہے حسرت
بچھڑ گیا جو یہاں، پھر کبھی ملا ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






