تضاد

Poet: ہیکل ہاشمی By: Haikal Hashmi, Toronto

‎تجھے یہ غم کہ روشنی بہت ہے
‎مجھے یہ فکر تیرہ شبی تو کٹے
‎تیرے دامن میں چاند بھی ستارے بھی
‎مجھےیہ فکر دل کی تیرگی تو کٹے
‎تو محصوراپنی جگمگاتی شبستانوں میں
‎مجھے یہ فکر کہ شب ہجر کی تاریکی تو کٹے

‎یہ ٹھیک ہے کہ تو محو اپنے آپ میں ہے
‎یہ سہی کہ میں ایک دل گداز رکھتا ہوں
‎تیری چاہت ہے محدود خود تیری ذات میں
‎ میں زندگی کو پرکھنے کا انداز رکھتا ہوں
‎تو سر تا پا ایک کھلی کتاب سہی
‎میں سینے میں چھپاۓ انگنت راز رکھتا ہوں

‎یہ تضاد فکر و نظر سلامت رہے
‎انہیں عناصر سے مربوط ہے زندگی کا نظام
‎یہ تیری سرشت ہے جو بدل نہیں سکتی
‎خواہ مخواہ کیوں تجھ پہ دھروں کوئی الزام
‎ہم مسافر ہیں متضاد راہوں کے
‎اسی طرح تو چل رہا ہےکائنات کاانتظام

‎تو اپنے رنگ و روپ میں استادہ رہے
‎میں اپنی خودفراموشی میں گم رہوں
‎ تو اپنی خیالوں کی دنیا میں محصور رہے
‎میں اپنی ذات کے دریا میں متلاطم رہوں

Rate it:
Views: 602
01 Sep, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL