کہتے ہیں دل سے دل کی
Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky, K.S.Aﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﮦ ﮨﮯ
ﺳﺮﮮ ﻋﺎﻡ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﻮ ﺟﺘﺎﺗﮯ ﮨﻮ
ﺳﭻ ﺑﺘﺎﻭ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﮦ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﻭﮞ ﮔﺌﯽ
ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﮔﺌﯽ
ﺗﻢ ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ
ﺑﺲ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﺎﮦ ﮨﮯ
ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺭﺣﯿﻢ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﺭﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﮦ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﭼﮭﺎﯾﺌﻮﮞ ﮐﻮ
ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮔﮯ
ﺟﻦ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮨﯽ لکیؔ
ﻏﻔﻠﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﮨﮯ
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






