کہہ دو کہ تم صرف مجھے پیار کرتے ہو

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

کہہ دو

یہ جدائی جھوٹ ہے
یہ تنہائی جھوٹ ہے
یہ بےپروائی جھوٹ ہے

کہہ دو

تمہارا غصہ تمہاری
ہر تلخئ جھوٹ ہے
میرے اظہار پے انکار جھوٹ ہے

کہہ دو

میرے ٹوٹے خواب جھوٹ ہے
میری آنکھوں میں برسات جھوٹ ہے
میری زندگی ُاداس جھوٹ ہے

کہہ دو

میرا تڑپنا اور شمع کی
طرح پگھلنا جھوٹ ہے
میرا ہرپل مرنا جھوٹ ہے

کہہ دو

تمہارا خاموش رہینا اور
مجھ پے الزام دینا جھوٹ ہے
پھر میرا تمنا موت کرنا جھوٹ ہے

کہہ دو

تمہارا مجھ سے دور ہونا اور
مجھے اس دنیا میں
تنہا کر دینا جھوٹ ہے

کہہ دو

صرف اک بار کہہ دو
یہ سب جھوٹ ہے
یہ سب خیال ہیں
اک ڈارونا خواب ہے

کہہ دو

سچ ہیں تو صرف اتنا کہ
تم بھی میری طرح مجھے چاہتے ہو
تم بھی مجھے اپنا کہتے ہو

کہہ دو

تم بھی اپنی دعاؤں
میں میرا نام لیتے ہو
تم بھی اپنی زندگی کے
ہر پل کو میرے لیے جیتے ہو

کہہ دو

تم بھی ہمارے ساتھ
ہونے کا انتظارکرتے ہو
تم بھی اپنی ہر سانس کو
میرے نام کرتے ہو

کہہ دو

تم صرف مجھے پیار کرتے ہو
کہہ دو سچ ہے تو صرف اتنا کہ
تم صرف مجھے پیار کرتے ہو
 

Rate it:
Views: 1649
20 Jul, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL