کیا خیال ہے
Poet: Haider Ali Bukhari By: Haider Ali bukhari, Uch sharifعجیب بات ہو گئی
میں آج کافی دیر تک تیرے سحر میں کھو گیا
اس وقت تم مصروف تھی
کچھ اجنبی رفاقتوں کے ساتھ اپنے فون پر
میں تجھ کو یاد بھی نہ تھا
مگر میں تیرے پاس تھا
نہیں
تو میرے پاس تھا
میں تجھ سے کب جدا رہا
میں تجھ پہ ہی فدا رہا
میں تیرا ہی بنا رہا
پھر اک خیال آگیا
وہ صرف میری سوچ تھی کہ آج مجھ سے فون پر
تیری طرف سے جان جاں عجب سوال آگیا
کہ
مجھ کو دیکھا تک نہیں تو کیسے میرے پیار کے حصار میں تم آگئے
میں ہنس دیا
اور عرض کی
مجھے تمہارے دل سے اور دل سے صرف پیار ہے
اگرچہ اک خیال ہے
مگر بہت کمال ہے
تمہارا کیا خیال ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






