ز یبا ٸش گل ہو جا ۓ کیا یوں بھی ہوا ہے کبھی؟؟؟

Poet: Naila Rani By: Naila Rani, Lahore

ز یبا ٸش گل ہو جا ۓ کیا یوں بھی ہوا ہے کبھی؟؟؟
یار کے خیال میں کیا یوں کو ٸ دیوانہ بھی ہوا ہے کبھی

اے عبدل تیری خوا ہش ہو گی مال و زر کی ہوس
کیا مال و زر سے بھی کو ٸ عہدہ برآں ہوا ہے کبھی

ہم بھی دکھا دیں گے اک بار اور چیر کر دل
اپنا کچھ دور اور چل کیا کو ٸ زخم ہرا بھی کھو لتا ہے کبھی

یوں لگتا ہے کہ تیری روح کی پیاس کی طرح ہوں
اور روح میں میری تو بسا ہے کیا یوں بھی ہو تا ہے کبھی

لوگ کہتے ہیں کہ لکھوں محبت کے حق میں کو ٸ نغمہ با اثر
کیا فسا نہ محبت بھی دو لفظوں میں بیاں ہوا ہے کبھی

بتا ٶ کیا سوچ رہے ہو ؟؟؟ میری زندگی ہو تم یار
کیا اپنی زندگی کا بھی کو ٸ دشمن ہوا ہے کبھی؟؟؟

یوں چلتا ہے قلم روا نی سے تیری بات پر اے میرے عبدل
جیسے کہ فلک پر نالہ عشق و محبت لکھ چکا بھی ہو کو ٸ

اب اور کیسی خوا ہش کیا غم اور خو شی کے لمحے
بس ذرا وقت دیجیے کہ دور ہو نے سے بھی کو ٸ جدا ہوا ہے کبھی

زیبا ٸش گل ہو جا ۓ کیا یوں بھی ہوا ہے کبھی
یار کے خیال میں کیا کو ٸ دیوانہ بھی ہوا ہے کبھی

Rate it:
Views: 614
05 May, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL