کیا عنوان دوں۔۔۔۔۔ اسے ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔ خوشبو" تھی جس "روز(پھول)" کی

Poet: Gujranwala to Dhahran, KSA Janu By: Janu - Dhahran, KSA, Gujranwala

کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا
کہ مجھے درد میں لھکنا نہیں آتا
دل کو, فرزانہ ، تجھے ,بھلانا نہیں آتا
مجھے قریب کیا کیوں ، اے دوست
پھر دور ہوے خود، کہ اب پانا نہیں آتا
مجھے اتنا کیوں چاھا جاناں ؟
اتنا تو میں نے خود کو بھی نہ چاھا
ھاں وہ جذبہ پاکیزہ رھا میرے دل میں
تم نے بھی جسے اپنایا، جسے جانچا اور سراہا
یاد کرو زرا ۔۔۔۔۔۔۔۔!
فون پہ خلوص محبت کا وہ والہانہ
وہ تیرے خطوط کی " تیزگام "
نئے سال و جنم دن پر - وہ تحائف کا یلگارانہ
وہ Libra وہ ILU وہ شاہکار نام
وہ پھولوں سے مرتب میرا نام
کبھی "ساجن " لکھنا، اور کبھی " جان "
وہ جھیل کے پتوں پہ کبھی " W " لکھنا اور کبھی " N "
کبھی کلا ئی کی چوڑیوں سے بنانا میرا نام
کبھی یہ لکھنا ۔۔ ۔۔
" آپ ہی کے نام سے پا ئی ہے زندگی
ختم ہو گا یہ قصہ آپ ہی کے نام پر"
وہ کیا ہوا، وہ خلوص، وہ پاکیزا محبت !
جس پہ تجھے بھی ناز، اور مجھے بھی ناز تھا
جسے پرکھا تو نے اور دیا اک گلاب سا نام
جسنے تیری زندگی کا مفہوم بدلا
تو "خوشبو" تھی جس "روز" کی
کیا پوچھا کبھی اس کا پتہ
کس حال میں ہے وہ ،اور وہ ہے کہاں ؟
ہر پل تجھے ڈھونڈا، ہرممکن، ہر مکاں
یقیں ہے، تجھے ہوئی کچھ غلط فہمیاں
کیسے بتاؤں اپنی بے ربط تحریر سے
کہ زندگانی کس طرح برباد ھو تی رہی
مجھے معلوم ہے کہ نہیں آتا گزرا ہوا زمانہ
مگر جب تک زیست ہے امید ملنے کی ہوں کرتا
میں تمیں ہر صبح، ہر شام تلاش کروں
صدیوں کی صدیاں بیت گئیں، اور بیت رہیں، پر تم نہ آۓ
کبھی آنکھیں برسیں،
کبھی یادیں پاگل سا کردیں
زندگی سزا سی بن گئی ہے
جیسے میری خطاء بن گئی ہے
تم پاس نہیں تو یہ گماں ھوتا ہے
کہ وقت وہیں اس جگہ ٹھر گیا ہے
بے ھنگم سے الفاظ، پر کچھ مفھوم تو ہے
پھر کیوں نہیں سمجھتے، کہ سمجھنا نہیں آتا
ہزار شکوے سہی، ہزار بدگمانیاں سہی
پر یہ تو بتاؤ ہمارا سامنا کرنا کیوں نہیں آتا
وہ قسمیں، وہ روابط، وہ مستحکم سی باتیں
جس پہ ناز تھا ھم کو، وہ ھوئ کیوں بے نشاں
زندگی کے کھٹن سفر میں تجھ کو بھولنا نہیں آتا
ہر ہر منزل پہ تیری یاد کا ہے بسیرا
زیست میں رہا جوازل سے ادھورا پن اپنا
کہ جس شے یا ہستی کو چاہا ادھوری ہی رہی
"وہ انجانے میں زمانے میں کھونا تھا تیرا
پر یاد کیوں نہ کھوئ جو ابتک ہے باقی"
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے امیدیں

پھر بھی وہی خلوص لیے جو اب بھی ھے
پھر رھا ھوں اب بھی برسوں سے، تلاش میں تیری
"رنجش ہی سی دل دکھانے کلیے آ، یہ آخری شمعیں بھجانے کلیے آ"
"بچھڑ گئی ہے جو اک بار اپنے 'پھول' سے
تمام عمر نہ ہو گا وصال 'خشبو' کا ۔۔۔۔۔۔؟
یہ ساتھ اپنے ھی 'پھول' کا چھوڑ دیتی ہے
سو اعتبار نہ ہو گا بحال 'خوشبو' کا "
"دعا"
" میرے لب پہ دعا بھی ہے
دل میں تیری آس بھی ہے
تجھ کو کچھ احساس بھی ہے
کس کس سے میں پوچھوں گا
کب تک راہیں دیکھوں گا
آخر اک دن ھار کے میں
سارے وعدے پیار کے میں
اتنا سوچ کہ بھولوں گا
تم نہ لوٹ کے آؤ گی
تم نہ لوٹ کے آؤ گی ؟ "
رھیگا ساتھ یاد تیری کا زندگی بن کر
یہ اور بات ہے کہ زندگی وفا نہ کرے
تیرا نہ ملنا
اک معمہ بن رہا ہے
یاد تو یقینا ہو گا تجھے
وہ فون پر پہلی ' سوچ' کا ترانہ
جو 'خلوص' کی تلاش میں 'خلوص' کا پانا
کہ شامل تھا اس میں " خلوص" تیرا
کہا نہ تھا میں نے، کہ نہ تنگ کرو مجھے
مگر کہنا یہ تمہارا کہ
نہیں 'صلہ' چاہیے ، بس چاہیے 'خلوص'
پھر کیا ھوا ؟
وہ دریچہ ، وہ خطوط ، وہ آواز !
کیوں کیا یک لخت بند؟
سب پہلو زندگی کے عیاں تھے تم پر
پھر کم مائیگی کو مری دھوکا سمجھ ڈالا
کب سوچا تھا زندگی میں یہ حال ہو گا بےبسی کا
تمھاری جفا کا تم کو ہی ملال ہو گا
"ھم میں نہ تھی کوئ بات یاد تم کو جو نہ آ سکے
تم نے ھمیں بھلا دیا ، ھم نہ تمہیں بھلا سکے"
اشعار میں ڈھونڈ لو اپنا اور میرا نام
جو ہیں صرف تمھارے
بھوجھو ! کون ھوں میں لکھنے والا، تم جان لو گے
وہ دو پھولوں پہ F اور N لکھنا
وہ دعاوں کا بہترین حصہ دینا
اور اپنے تخیل کو افلاک کا درجہ دینا
اور مجھے فلک پہ رونما ستارے کا درجہ دینا
وہ نیاز میموریل اور گلشن میں بھلانا
پھر میری غریب النفسی دیکھ کر، اک دم بدل جانا
اتنا عیاں اشارہ ھے میرے اشعارمیں
پا لو مجھے، گر درد سمجھو
کہ بہت قریب ھوں اک "میل" پر
rose2khushbo یاھو پر
منتظـــــــــــــر فردا
وہی "جانو"
تمھارا ، برسوں کا بھٹکا اک ستارہ
جانو – دھران، سعودیہ – گجرانوالا، پاکستان

Rate it:
Views: 767
05 Jun, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL