کیا منزل پالی تم نے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, gujranwalaہاتھوں سے ہاتھ چڑا کے ۔کیا منزل پالی تم نے
رشتہ غیر سے بنا کے۔کیا منزل پالی تم نے
جس کی تلاش تھی تمہیں جانم ! بتاؤ ذرا
مجھے خاک میں ملا کے۔کیا منزل پالی تم نے
میرے ارمانوں کے چراغوں کو ہوا دے کے
نئے دیئے بھی جلا کے۔کیا منزل پالی تم نے
کتنی بے قراری تھی تمہیں آگے گزرنے کی جاناں!
مجھے راستے میں گِرا کے ۔کیا منزل پالی تم نے
کتنی شہرت ملی تجھے اُس شاہ کی بدولت
اُس کے خزانے پا کے۔کیا منزل پالی تم نے
کتنے مان کتنے چاہو سے گلے لگایا میں نے
میری ہی سانسیں ڈبا کے۔کیا منزل پالی تم نے
وفا کر کے مجھے کچھ حاصل نہ ہوا مگر
تمہیں تھے ہنر جفا کے۔کیا منزل پالی تم نے
بد بخت تھے ہم چلو مان لیتے ہیں یہ
مجھ سے دور جا کے۔کیا منزل پالی تم نے
میرے صحراتھے پیاسے محبتوں کے مگر
نفرتوں کے بادل برسا کے۔کیا منزل پالی تم نے
باہوں میں رہنے والے بتا تو سہی مجھے
مجھ سے چہرہ چھپا کے۔کیا منزل پالی تم نے
مجھے چھوڑ کے راہِ زندگی میں اکیلا
قدم اپنے اب بڑھا کے۔کیا منزل پالی تم نے
نہال ہی تھا دیوار تری کامیابی میں شاید
مجھے غیروں سے مرواکے۔کیا منزل پالی تم نے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






