کیفیت
Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quettaتجھے دیکھوں تجھے پاؤں تجھے میں دیکھتی جاؤں
میرے دل کی تمنا ہے
تجھے میں سوچتی جاؤں
حقیقت ہے ، ضرورت ہے کہ خواہش ہے کوئی میری
نہیں معلوم ہے کچھ بھی تجھے میں دیکھتی جاؤں
عجب حالت میں ہوتی ہوں
کبھی چھپ چاپ بیٹھوں میں کھبی بس بولتی جاؤں
اگرچہ دل پہ لکھا ہے
مگر کچھ دن سے کاغذ پر
تمہارا نام لکھ لکھ کر اسے میں چومتی جاؤں
عجب دل کی حالت ہے صدف یہ آئیں بھرتا ہے
نہیں مانے یہ دل میرا میں جتنا روکتی جاؤں
عجب دل کی یہ حالت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






