سر بستہ راز

Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quetta

تم پیار کہانی کیا جانو
اک پھول نشانی کیا جانو
میرے دل کا جانی کیا جانو
میں اس کی رانی کیا جانو
تم کیا سمجھو، تم کیا جانو
وہ پہلے پہل انجانا تھا
خوشبو کا دیس ٹھکانا تھا، وہ پگلا تھا دیوانہ تھا
اسے واپس لوٹ کے جانا تھا
تم کیا سمجھو، تم کیا جانو
میں پیار اسی سے کر بیٹھی
میں چین سے پھر نہ گھر بیٹھی
پر بازی دل کی ہار بیٹھی
اور آج ہو چشم تر بیٹھی
تم کیا سمجھو، تم کیا جانو
اس جسم کے سارے بام و در
خال و خد اور یہ برگ و ثمر
اور آنکھوں کے جادو کا اثر
ہے کس کے لئے چہرے کی سحر
تم کیا سمجھو، تم کیا جانو
مرے افسردہ سے حالوں کو
ان الجھے بکھرے بالوں کو
ان بے ترتیب سوالوں کو
مری آہوں کو مرے نالوں کو
تم کیا سمجھو، تم کیا جانو
مری اشک بہاتی یہ آنکھیں
کوئی سوگ مناتی یہ آنکھیں
اک شام سجاتی یہ آنکھیں
بتلاتی ہیں کیا آنکھیں
تم کیا سمجھو، تم کیا جانو
میں ایک ادا نہ بیچ سکی
میں شرم و حیا نہ بیچ سکی
میں اپنی وفا نہ بیچ سکی
میں صدف انا نہ بیچ سکی
لو اب سمجھو، تم سب سمجھو

Rate it:
Views: 587
28 Jan, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL