گردش ِ دوراں سے میری جاں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabadگردش ِدوراں سے میری جاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
زندگی ہوتی نہیں ہےآساں ، پریشاں نہ ہوا کیجیے
کچھ لمحے ہی جی لینے دیں اس بزم ِجہاں میں
چند گھڑیوں کے ہیں مہماں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
محض کہہ دینے سےہی یادیں نہیں مٹتی دل سے
یہ بات ہے خارج از امکاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
اپنی کشتی کو لہروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا
کرلے جو کرسکتا ہے طوفاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
کون کہتا ہے کہ تھم جاتی ہے کسی کے جانے پہ
زندگی تو رہہتی ہے رواں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
در ایک بند ہوا، تو کیا ہے سو کُھل بھی گئے ہیں
وقت بھی ہوجائے گا مہرباں،پریشاں نہ ہوا کیجیے
خدا کی دھرتی بہت وسیع ہے یہ بد گمانی کیسی
کہیں تو مل جائے گا سائباں،پریشاں نہ ہوا کیجیے
دل ہے تو درد بھی ہوگا ، آنکھ ہے تو آنسو بھی
یونہی چلتا رہے گا کارواں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
خودی کو عشق میں اِس درجہ فنا کردوں گا رضا
مٹ جائے گا میرا نام و نشاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






