گردش ِ دوراں سے میری جاں

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabad

گردش ِدوراں سے میری جاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
زندگی ہوتی نہیں ہےآساں ، پریشاں نہ ہوا کیجیے

کچھ لمحے ہی جی لینے دیں اس بزم ِجہاں میں
چند گھڑیوں کے ہیں مہماں، پریشاں نہ ہوا کیجیے

محض کہہ دینے سےہی یادیں نہیں مٹتی دل سے
یہ بات ہے خارج از امکاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے

اپنی کشتی کو لہروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا
کرلے جو کرسکتا ہے طوفاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے

کون کہتا ہے کہ تھم جاتی ہے کسی کے جانے پہ
زندگی تو رہہتی ہے رواں، پریشاں نہ ہوا کیجیے

در ایک بند ہوا، تو کیا ہے سو کُھل بھی گئے ہیں
وقت بھی ہوجائے گا مہرباں،پریشاں نہ ہوا کیجیے

خدا کی دھرتی بہت وسیع ہے یہ بد گمانی کیسی
کہیں تو مل جائے گا سائباں،پریشاں نہ ہوا کیجیے

دل ہے تو درد بھی ہوگا ، آنکھ ہے تو آنسو بھی
یونہی چلتا رہے گا کارواں، پریشاں نہ ہوا کیجیے

خودی کو عشق میں اِس درجہ فنا کردوں گا رضا
مٹ جائے گا میرا نام و نشاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے

Rate it:
Views: 644
09 Nov, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL