گلاب کے پھول۔۔۔
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreگلاب کے پھول
علامت ہیں محبت کی
وہ محبت جو ان سرخ گلابوں کو
دولہا دلہن کے استقبال پر
نچھاور کی جاتی ہے
یا ظاہر ہوتی ہے
محبوب کے محبوبہ کو تھما دینے سے
اور یا پھر۔۔۔
کسی کے بالوں میں انھیں سجا کے
گجرا بنا کے، ہاتھوں میں پہنا کے
یا تو کسی محبوب ہستی کی
قبر پر جاکے
آنکھوں میں آنسو
زبان قفل میں رکھتے ہوئے
سو گِلے شکوے دل میں رکھتے ہوئے
پیار بھرے انداز سے
بکھیرنے سے ظاہر ہوتی ہے
لیکن اس میں انسان کا کوئی کمال نہیں
کمال ہے
تو ان پھولوں کا
جو علامت ہیں
پیار کی، عشق کی، اور محبت کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






