پھول کیوں کر کھلا نہیں معلوم

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

پھول کیوں کر کھلا۔۔۔۔۔ نہیں معلوم
شعلہ کیوں کر اُٹھا ۔۔۔۔۔نہیں معلوم

تھا ستارہ وہ کس کی ۔۔۔۔۔۔۔قسمت کا
ٹوٹ کر جو گرا ۔۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

ہاتھ اُٹھے تو ہیں۔۔۔۔۔۔۔ دعا کے لئے
کیا کروں گا دعا ۔۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

ہم سےکیا پوچھتے ہے۔۔۔۔۔ اُس کا پتہ
ہم کو اپنا پتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

میں تو نظریں چرائے۔۔۔۔۔۔۔ بیٹھا تھا
راز کیسے کھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

دل تَو ضبطِ فغاں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔خُوگر تھا
آج کیوں رو دیا ۔۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

نہ کوئی آرزو نہ ۔۔۔۔۔۔۔خواہش ہے
دل کو کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

میکدے سے میں کس کے۔ گھر جاؤں
سچ ہے یہ ساقیا ۔۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

پوچھتے کیا ہو حالِ دل۔۔۔۔۔ مجھ سے
تم کو اے دوست کیا۔۔ ۔نہیں معلوم

اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ ۔۔۔۔۔کے کہو
مجھ سے کیوں ہو خفا۔۔۔ نہیں معلوم

چھو کے آئی ہے اُن کے۔۔ ہونٹوں کو
کیا سنائے صبا ۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم

واپسی کا بھی راستہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالم
تم کو اے ناخدا ۔۔۔۔۔نہیں معلوم

دل مرا بیٹھ بیٹھ ۔۔۔۔۔۔۔جاتا ہے
کون اُٹھ کر گیا ۔۔۔۔۔نہیں معلوم

چاند جو اوج پر۔۔۔۔۔۔۔ چمکتا ہے
کس کاہے نقشِ پا ۔۔۔نہیں معلوم

اُس کے کوچے سے ہو۔ کے آیا ہے
اِس کو کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔نہیں معلوم

اب ترا کون ہے۔۔۔۔ زمانے میں
زخمِ دل بھی ہنسا۔۔۔ نہیں معلوم

کہہ تو آیا ہوں حالِ دل ۔۔۔۔اپنا
اُس نے بھی کچھ سُنا ۔۔نہیں معلوم

شکوہ اُس تک ہے۔۔۔۔ نارسائی کا
ہم کو آہِ رسا ۔۔۔۔۔نہیں معلوم

گل کھلائیں گے کیا۔۔ بہاروں میں
اُن کے ناز و ادا ۔۔۔۔نہیں معلوم

تیرے آنے سے ایک۔۔ محشر سا
کیوں ہوا ہے بپا ۔۔۔نہیں معلوم

دل نے کی ہے۔۔ دماغ نے کی ہے
کس نے کی ہے خطا ۔۔نہیں معلوم

اپنے اِس جرمِ عاشقی۔۔۔ کی وسیم
کیا ملے گی سزا۔۔۔۔ نہیں معلوم
 

Rate it:
Views: 552
21 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL