گلابوں سے سجا دُوں گا اُسے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaگلابوں سے سجا دُوں گا اُسے
رازِ دل سارے بتا دُوں گا اُسے
وادی عشق کی بسا دُوں گا اُسے
کومل پری بنا دُوں گا اُسے
گلابوں سے سجا دُوں گا اُسے
اِس ولنٹئن پے
حسرت اپنی پوُری کروں گ
ختم یہ اب دوری کروں گ
توڑ کے ہر مجبوری کروں گ
کام یہ ضروری کروں گ
حسرت اپنی پوُری کروں گ
اِس ولنٹئن پے
نہال میں اب نہال ہو جائوں گ
بے حال سے بحال ہو جائوں گ
بے ہنر سے با کمال ہو جائوں گ
محبتوں کا اُس پے جال ہو جائوں گ
نہال میں اب نہال ہو جائوں گ
اِس ولنٹئن پے
اِس ولنٹئن پے
انشااللہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






