گلابوں کی چُنڑی پہنا کے لے آئوں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaگلابوں کی چُنڑی پہنا کے لے آئوں
کیوں نا تجھے اپنی بنا کے لے آئوں
سوچ رہا ہوں اِس ولنٹئن پے
اپنے گھر تجھے دلہن بنا کے لے آئوں
ختم کروں ہر فاصلہ اپنے درمیان سے
ہر شکوہ شکایت مٹا کے لے آئوں
اِس بار منانا ہے تجھے ہر حال میں نے
ہاتھ جوڑ سر جھکا کے لے آئوں
ترے شبنمی ہونٹوں کے لئے جانم!
گلابوں کے رنگ چرا کے لے آئوں
تاروں کی لڑی لائوں ترے لئے یا
چاند ترے لئے اٹھا کے لے آئوں
ترے حسُن پے اِک اور غزل جاناں!
نہال سے کیوں نا لکھا کے لے آئوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






