گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں
Poet: فاروق By: فاروق, Quettaگلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں
گلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیں
جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں
ہمارا دل ہے اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں
اگر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شاید
اک ایسے درد کی تم کو شعاعیں بھیجی ہیں
تمہاری خشک سی آنکھیں بھلی نہیں لگتیں
وہ ساری چیزیں جو تم کو رلائیں، بھیجی ہیں
سیاہ رنگ چمکتی ہوئی کناری ہے
پہن لو اچھی لگیں گی گھٹائیں بھیجی ہیں
تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں
سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں
اکیلا پتا ہوا میں بہت بلند اڑا
زمیں سے پاؤں اٹھاؤ ہوائیں بھیجی ہیں
More Love / Romantic Poetry






