گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں
Poet: فیضان By: فیضان, Rawalpindiگلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں
ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں
گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا
مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں
نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی
چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں
حنائی ہاتھ دروازے سے باہر
اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں
بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے
کسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں
حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علویؔ
تبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں
More Love / Romantic Poetry






