گنہگار نہیں پھر بھی گنہگار رہی

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.A

گنہگار نہیں پھر بھی گنہگار رہی
اپنی اک خطاء کے عواض میں شرم سار رہی

پھولوں کی زمین تھی میرے چلنے سے پہلے
قدم ُاٹھاتے ہی کانٹوں کی دلدار رہی

پرندے بھی چلے گئے شام ہوتے ہی
میں تنہا اپنے گھر میں بیمار رہی

ہاتھ تو بڑھائے لیکن خدا سے کیا مانگتی
میں خالی ہاتھوں کو دیکھ کر اشک بار رہی

ُاس کا سینہ چھوڑ کر سارے پتھر توڑ دیے
میں پتھر کے موم بننے کی طلبگار رہی

ُاس نے پھر سے جینے کی دعا دے دی
جبکہ موت کی خاطر ہر پل میں تیار رہی

کیسے ملتا ہے بھلا خدا اس دنیا میں لکی
میں ہر وقت ڈھونڈتی بس وہ تار رہی

Rate it:
Views: 445
19 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL