اب تو کچھ یاد بھی نہیں

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.A

کب کیسے چلا تھا کارواں
اب تو کچھ یاد بھی نہیں
وہ اجنبی بن کر آیا تھا مہرباں
اب تو کچھ یاد بھی نہیں
وہ الله الله کہنے والے
تسبی پکڑنے والے ہاتھ
دے رہے تھے مجھے دغا کیوں
اب تو کچھ یاد بھی نہیں
ُاس کی ہر چیز قبول کر لی میں
جس نے میری زندگی کو بنا دیا
فقط اک سگریٹ کا دھواں
اب تو کچھ یاد بھی نہیں
ہاں میں ذاتوں پر
یقین نہیں کرتی تھی
پر فطرت تھی ُاس کی توڑنا
سو توڑ دیے ُاس نے
میری وفاؤں کے سارے پیماں
اب تو کچھ یاد بھی نہیں
میری زندگی کا تماشا بنا کر
وہ معافی مانگ رہا تھا کس لیے
جس نے کچل دیے
اک پل میں میرے ارماں
اب تو کچھ یاد بھی نہی

Rate it:
Views: 700
19 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL