گُم سُم گُم سُم سے رہتے ہیں ہم دل کا جانی کھو بیٹھے
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادگُم سُم گُم سُم سے رہتے ہیں ہم دل کا جانی کھو بیٹھے
آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے، آنکھوں کا پانی کھو بیٹھے
جو دل میں جوت جگاتی تھی، جو شب بھر نُور لُٹاتی تھی
جو تیرے گھر تک آتی تھی، وہ راہ پُرانی کھو بیٹھے تھے
سُکھ اور دُکھ کی برسات کریں، جو چاہیں اب حالات کریں
خاموش رہیں یا بات کریں، کردار کہانی کھو بیٹھے
اس جیون کا عنوان تھی جو، گزرے لمحوں کی جان تھی تھی جو
اس الفت کی پہچان تھی جو، وہ پریم نشانی کھو بیٹھے
چاہت کا دم جو بھرتے ہیں، کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں
ہم بھولے بھالے ڈرتے ہیں، الفاظ معانی کھو بیٹھے
اب دردِ جدائی سہنا ہے، لب بستہ ہیں پر کہنا ہے
اب وَرد کی خوشبو تنہا ہے، ہم رات کی رانی کھو بیٹھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






