مری آنکھوں میں ایسے اُس کا چہرہ سانس لیتا ہے
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادمری آنکھوں میں ایسے اُس کا چہرہ سانس لیتا ہے
سمندر میں اتر کر جیسے دریا سانس لیتا ہے
مری تنہائیوں میں جو شریکِ فکر رہتا ہے
مری غزلوں میں ہر پل اس کالہجہ سانس لیتا ہے
نہ چھیڑو اس کو رہنے دو مگن اپنے تصور میں
یہ دیوانہ اسی میں لمحہ لمحہ سانس لیتا ہے
زرا سی دیر ٹھہرو، تند لہرو حوصلہ کر لو
کسی کی یاد میں ڈوبا کنارا سانس لیتا ہے
کسی بھی موڑ پر رکتا نہیں منزل سے پہلے میں
مرے قدموں سے تو منزل کا رستہ سانس لیتا ہے
کوئی اندازہ اسکے کرب کا کر ہی نہیں سکتا
بہ نوکِ خار جو شبنم کا قطرہ سانس لیتا ہے
جو منظرہے پسِ منظر میں بھی اسکے کہانی ہے
حقیقت کے لبادے میں فسانہ سانس لیتا ہے
برابر دیکھتا رہتا ہے میری آنکھ کی حیرت
تحیر کے فلک پر جو ستارہ سانس لیتا ہے
کیا کرتا ہوں میں محسوس لمسِ جانِ وَرد اُس میں
مرے آنگن میں جو خوشبو کا جھونکا سانس لیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






