گھاؤ
Poet: Ahsan Nawaz By: Ahsan, lahoreکیوں درد کی لہریں اٹھتی ہیں
کیوں سمندر شور مچاتا ہے
کیوں دامن میرا بھیگا ہے
کیوں آنکھ سے پانی آتا ہے
اے درد کی لہرو تھم جاؤ
میرےاندر انساں سوتا ہے
جس رات کو تم گاتی ہو
اس رات کو یہ روتا ہے
اس رات تمہاری جانب سے
اک درد کا ریلہ آتا ہے
میں کیسے جیوں اور کیسے مروں
یہ درد مجھے تڑپاتا ہے
یہ فقط دن کی بات نہیں
میں راتوں میں سوچا کرتا ہوں
جس رات کو تم سو جاتی ہو
اس رات میں آہیں بھرتا ہوں
میں گرد مسافت ہی سہی
پر سنگ قدموں کے چلتا ہوں
اے درد کی لہرو سن جاؤ
میں عشق کی ناؤ رکھتا ہوں
تم لاکھ ڈبونا چاہو گی
پر میں ذات کٹاؤ رکھتا ہوں
اے درد کی لہرو دیکھو تم
میں بھی گھاؤ رکھتا ہوں
میں بھی گھاؤ رکھتا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







