گھاؤ

Poet: Ahsan Nawaz By: Ahsan, lahore

کیوں درد کی لہریں اٹھتی ہیں
کیوں سمندر شور مچاتا ہے
کیوں دامن میرا بھیگا ہے
کیوں آنکھ سے پانی آتا ہے

اے درد کی لہرو تھم جاؤ
میرےاندر انساں سوتا ہے
جس رات کو تم گاتی ہو
اس رات کو یہ روتا ہے

اس رات تمہاری جانب سے
اک درد کا ریلہ آتا ہے
میں کیسے جیوں اور کیسے مروں
یہ درد مجھے تڑپاتا ہے

یہ فقط دن کی بات نہیں
میں راتوں میں سوچا کرتا ہوں
جس رات کو تم سو جاتی ہو
اس رات میں آہیں بھرتا ہوں

میں گرد مسافت ہی سہی
پر سنگ قدموں کے چلتا ہوں
اے درد کی لہرو سن جاؤ
میں عشق کی ناؤ رکھتا ہوں

تم لاکھ ڈبونا چاہو گی
پر میں ذات کٹاؤ رکھتا ہوں
اے درد کی لہرو دیکھو تم
میں بھی گھاؤ رکھتا ہوں
میں بھی گھاؤ رکھتا ہوں

Rate it:
Views: 725
25 Oct, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL