ہائے میرا شکی صنم
Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khanبار ہا کہا ہے شک نہ کیا کرو
ہر بات کوچہار پہلو سوچا کرو
بات ہوتی نہیں ویسیجیسی بنالیتے ہو تم
میری پہچان کہ ہرشخص کواپنا رقیب بنا لیتےہو تم
ذراسی بات پہ اتنا بگڑتے ہوکہا کہوں کتنا ستاتے ہو تم
فون پہ کروں بات ادھر تو ایکسٹینشن ادھراٹھالیتےہو تم
آفس سے لیٹ آ کے مجھ سے کہتے ہو شام کدھر رہی تم
کرتے ہو یوں شک آلود سوال مجھے میری نظروں میں گرادیتےہو تم
شب بھر ٹہلتے ہو لان میں تنہا دن بھر تلخ رویہ روارکھتےہو تم
نظر بھر مجھے دیکھتے نہیں کتنابے وقعت کر چکے ہو تم
تیرا پہلا تحفہ سرخ چوڑیاں پہنی ہی آج آیا نہ ان پہ پیار کتنا بدلگئے ہو تم
تمام رات حرارت سے تپتا رہا تن میرا کروٹ بدل کہ بےخبر سوتے رہے ہو تم
صبح سے شام تیرا انتظار رہتا ہے گھرآکر حال تک نہیں پوچھتے ہو تم
آشنا تیرے قدموں کی آہٹتک سے ہوں بےالتفاتی کاگلہ مجھی سے کرتےہو تم
رشتہ رہ گیا شک کا درمیاں جب چاہتے ہو مجھے مجرم بنا لیتےہو تم
شک تو اک بہانہ ہے مجھ سے دور ہونے اب میں سمجھی مجھ سے بیزار ہو چکے ہو تم
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






