ہائےمحبت تری دل میں ہےاسےتو دھو بھی نہیں سکتا
Poet: Humaira Hammad By: Humaira Hammad, Gujranwalaتر ےزخم حاصل ہیں زیست کا,انہیں کھو بھی نہیں سکتا
گھٹ گھٹ کر جیتاہوں,زمانےکےسامنےروبھی نہیں سکتا
توامیرشہرکی بیٹی ہےخواب دیکھتی ہےنت نئےجان تمنا
میں مزدور کی اولاد ہوں سکون سے سو بھی نہیں سکتا
مجھ سے ملنےآیا کسی او ر کانام اپنے نا م سے جوڑ کر
آہ!وہ شخص کہتاتھاترےسواکسی اورکاہوبھی نہیں سکتا
اتنی بےدردی سےتوڑا تو نے اعتماد مرا محبتوں سےظالم
اجڑنےکے خوف سےمیں تعلق کےبیج بو بھی نہیں سکتا
وہ خط ترے وہ تحفے ترے سب جلا دیے میں نے حمیرا
ہائےمحبت تری دل میں ہےاسےتو دھو بھی نہیں سکتا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






