ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ), K.S.Aاب تو یاد بھی نہیں رہتا
ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
ہاں کبھی اک وقت ہوتا تھا
جب اک چوڑئی کے لگنے پر
میں گھنٹوں روتی رہتی تھی
سارا گھر سر پر ُاٹھاتی تھی
پھر تو میں کوئی کام بھی نا کر پاتی تھی
لیکن اس وقت میں
اور ُاس وقت میں
بہت سا فرق ہے جاناں
اب تو یاد بھی نہیں رہتا
ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
دیکھوں اب کٹے ہاتھوں سے
میں چب چاپ کام کرتی ہوں
کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی
فقط خاموشی اختیار کرتی ہوں
سچ پوچھو تو
اب تو درد بھی محسوس نہیں ہوتا
کیوں کے اس درد سے بڑھ کر
اک اور درد ہے میرے سینے میں
جس کی مقدار کئی زیادہ ہے
جو ایسا درد ہے جاناں
جو بظاہر کسی کو نظر نہیں آتا
مگر میری روح کو گھایل کرتا ہے
میرے خون سے بھرے
لہوں لوہاں ہاتھ دیکھ کر لوگ گبھراتے ہیں
مجھ سے سوال کرتے ہیں
کہ چوٹ کیسے لگی ہے
یہ خون کیسے نکلا ہے
مگر میں ُانہیں کیسے بتاوں
آخر کیا جواب دوں
اب تو یاد بھی نہیں
ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






