ہجر میں روز جلتے جلتے میں تھک گیا ہوں

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

ہجر میں روز جلتے جلتے میں تھک گیا ہوں
خالی ہاتھوں کو ملتے ملتے میں تھک گیا ہوں

جان جاں اب تو شرف حاصل ہو دید کا بھی
ہجر کے سنگ چلتے چلتے میں تھک گیا ہوں

میں زمانے کی جعل سازی میں ڈھل نہ پایا
پر زمانے میں ڈھلتے ڈھلتے میں تھک گیا ہوں

چھوڑ جا میری مفلسی مجھ کو چھوڑ جا تو
گود میں تیری پلتے پلتے میں تھک گیا ہوں

اب تری یاد سے گزارہ نہ ہو سکے گا
اب اکیلے میں چلتے چلتے میں تھک گیا ہوں

لوٹ آ میرے چاند اب تو ، تو لوٹ بھی آ
ساتھ سورج کے ڈھلتے ڈھلتے میں تھک گیا ہوں

طعنہ اب کوئ بھی ملا تو نہ سہہ سکوں گا
روز لوگوں سے ٹلتے ٹلتے میں تھک گیا ہوں

اب مسیحائ کی ضرورت سی پڑ گئ ہے
زخمی پاؤں پہ چلتے چلتے میں تھک گیا ہوں

مجھ کو باقرؔ تمہاری یادوں سے پیار ہے پر
اب کے یادوں میں گلتے گلتے میں تھک گیا ہوں

Rate it:
Views: 460
13 May, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL