ہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی
Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی
اُس کو آئینے ہمیں زعمِ ہنر میں رہنا
گھاس کی طرح جہاں بُھوک اُگا کرتی ہو
اِتنا آسان نہیں شاخِ ثمر میں رہنا
چاند کی آخری راتوں میں بہت لازم ہے
ایک مٹّی کا دیا راہگزر میں رہنا
طائرِ جاں کے گزرنے سے بڑا سانحہ ہے
شوقِ پرواز کا ٹوٹے ہُوئے پَر میں رہنا
کوئی سیف ہو کہ مِیرؔ ہو کہ پروینؔ اُسے
راس آتا ہی نہیں چاند نگر میں رہنا
دو گھڑی میّسر ہو اس کا ہم سفر رہنا
پھر ہمیں گوارا ہے اپنا دربدر ہونا
اِک عذابِ پیہم ہے ایسے دورِ وحشت میں
زندگی کے چہرے پر اپنا چشمِ تر ہونا
اب تو اُس کے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں
کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہونا
ہر نگاہ کا پتّھر اور میرے بام و در
شہرِ بے فصیلاں میں، کیا ستم ہے، گھر ہونا
سوچ کے پرندوں کو اِک پناہ دینا ہے
دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہونا
اُس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئی تو جانا
کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں بسر ہونا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






