ہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی
Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی
اُس کو آئینے ہمیں زعمِ ہنر میں رہنا
گھاس کی طرح جہاں بُھوک اُگا کرتی ہو
اِتنا آسان نہیں شاخِ ثمر میں رہنا
چاند کی آخری راتوں میں بہت لازم ہے
ایک مٹّی کا دیا راہگزر میں رہنا
طائرِ جاں کے گزرنے سے بڑا سانحہ ہے
شوقِ پرواز کا ٹوٹے ہُوئے پَر میں رہنا
کوئی سیف ہو کہ مِیرؔ ہو کہ پروینؔ اُسے
راس آتا ہی نہیں چاند نگر میں رہنا
دو گھڑی میّسر ہو اس کا ہم سفر رہنا
پھر ہمیں گوارا ہے اپنا دربدر ہونا
اِک عذابِ پیہم ہے ایسے دورِ وحشت میں
زندگی کے چہرے پر اپنا چشمِ تر ہونا
اب تو اُس کے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں
کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہونا
ہر نگاہ کا پتّھر اور میرے بام و در
شہرِ بے فصیلاں میں، کیا ستم ہے، گھر ہونا
سوچ کے پرندوں کو اِک پناہ دینا ہے
دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہونا
اُس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئی تو جانا
کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں بسر ہونا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






