ہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی

Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی
اُس کو آئینے ہمیں زعمِ ہنر میں رہنا

گھاس کی طرح جہاں بُھوک اُگا کرتی ہو
اِتنا آسان نہیں شاخِ ثمر میں رہنا

چاند کی آخری راتوں میں بہت لازم ہے
ایک مٹّی کا دیا راہگزر میں رہنا

طائرِ جاں کے گزرنے سے بڑا سانحہ ہے
شوقِ پرواز کا ٹوٹے ہُوئے پَر میں رہنا

کوئی سیف ہو کہ مِیرؔ ہو کہ پروینؔ اُسے
راس آتا ہی نہیں چاند نگر میں رہنا

دو گھڑی میّسر ہو اس کا ہم سفر رہنا
پھر ہمیں گوارا ہے اپنا دربدر ہونا

اِک عذابِ پیہم ہے ایسے دورِ وحشت میں
زندگی کے چہرے پر اپنا چشمِ تر ہونا

اب تو اُس کے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں
کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہونا

ہر نگاہ کا پتّھر اور میرے بام و در
شہرِ بے فصیلاں میں، کیا ستم ہے، گھر ہونا

سوچ کے پرندوں کو اِک پناہ دینا ہے
دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہونا

اُس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئی تو جانا
کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں بسر ہونا

Rate it:
Views: 563
01 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL