ہم خیال چا ہیئے
Poet: darakhshanda By: darakhshanda, Blairsden محل بنانے کے لیئے گر اک حسیں مقام چا ہیئے
تو گھر بنانے کے لیئے اک حسیں ہم خیال چا ہیئے
یوں تو سجاتے ہیں سب ہی اپنا آشیاں
ہمسفر کو اپنا بنانے کے لیئے دوستی کا پہلا قدم چا ہیئے
بات دل کی زباں پر گر آے نہ آے کبھی
بات کو اپنی سمجھنے کے لیئے اک ہم زباں ہی چا ہیئے
آگ لگے نہ آشیاں جلے نہ دھواں اٹھے کبھی
گھر کو بسانے کے لیئے اک شیریں بیاں ہی چا ہیئے
رنجش ہو تضاد ہو زندگی تو گزر ہی جاتی ہے
گو گھر بہشت بنانے کے لیئے ہم خیال چا ہیئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






