ہم دیوانوں کی دنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

ہم دیوانوں کی دنیا کے
دستور نرالے ہوتے ہیں

چہرے پہ سجا کر خوشیوں کو
غم دل میں پالے ہوتے ہیں

تم کیا جانو ان لوگوں کو
تم کیا سمجھو ان روگوں کو

جن روگوں کا اس دنیا میں
اب دست مسیحا کوئی نہیں

ان لوگوں کو تم کیا سمجھو
ان لوگوں کو تم کیا جانو

کہ جن کے دہکتے سینوں میں
پانے کی تمنا کوئی نہیں

وحشت کے تقاضے سارے ہیں
حاصل کا تقاضہ کوئی نہیں

ان عشق کے مارے لوگوں کے
دکھوں کا مداوا کوئی نہیں

یہ کرچی کرچی پرتو ہیں
تکمیل سراپا کوئی نہیں

تم چلنا چاہو سنگ ان کے
کچھ رستہ تو چل سکتے ہو

لیکن منزل کے دھوکے میں
انکے ہاتھوں میں ہاتھ نہ دو

سن لو انکی ساری باتیں
سب لفظ سجا لو سینے میں

ہاں لیکن میری بات سنو
انکا وحشت میں ساتھ نہ دو

انکی وحشت وہ وحشت ہے
کہ جس کا کنارا کوئی نہیں

دیکھو تو یہ ہیں سارا عالم
سوچو تو نتیجہ کوئی نہیں

Rate it:
Views: 570
13 Jul, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL