ہم سا بھی ہوگا جہاں میں کوئی ناداں جاناں

Poet: سید نصیر الدین نصیر By: Muhammad Zubair, Chichawatni

ہم سا بھی ہوگا جہاں میں کوئی ناداں جاناں
بے رُخی کو بھی جو سمجھے ترا احساں جاناں

جب بھی کرتی ہے مرے دل کو پریشاں دُنیا
یاد آتی ہے تری زُلفِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشاں جاناں

میں تری پہلی نظر کو نہیں بھولا اب تک
آج بھی دل میں ہے پیوست وہ پیکاں جاناں

مجھ سے باندھے تھ ، بنا کر ، جو ستاروں کو گواہ
کر دئیے تُونے فراموش وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیماں جاناں

کبھی آتے ہوئے دیکھوں تجھے اپنے گھر میں
کاش پورا ہو مرے دل کا یہ ارماں جاناں

اک مسافر کو ترے شہر میں موت آئی ہے
شہر سے دور نہیں گورِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غریباں جاناں

یہ ترا حُسن ، یہ کافر سی ادائیں تیری
کون رہ سکتا ہے ایسے میں مسلماں جاناں

کیوں تجھے ٹوٹ کے چاہے نہ خُدائی ساری
کون ہے تیرے سوا یوسفِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوراں جاناں

نغمہ و شعر مرے ذوق کا حصّہ تو نہ تھے
تیری آنکھوں نے بنایا ہے غزل خواں جاناں

جاں بہ لب ، خاک بسر ، آہ بہ دل خانہ بدوش
مجھ سا بھی کوئی نہ ہو بے سرو ساماں جاناں

یہ تو پوچھ اس سے کہ جس پر یہ بلا گُزری ہے
کیا خبر تجھ کو کہ کیا ہے شبِ ہجراں جاناں

وہ تو اک نام تمہارا تھا کہ آڑے آیا
ورنہ دھر لیتی مجھے گردش ِ دوراں جاناں

یہ وہ نسبت ہے جو ٹوٹی ہے نہ ٹوٹے گی کبھی
میں ترا خاک ِ نشیں تو میرا سلطاں جاناں

کیا تماشہ ہو کہ خاموش کھڑی ہو دنیا
میں چلوں حشر میں کہتے ہوئے جاناں جاناں

در پہ حاضر ہے ترے آج نصیرِؔ عاصی
تیرا مجرم ، ترا شرمندہُ احساں جاناں

Rate it:
Views: 1447
06 Aug, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL