مت پوچھ یہ حال
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمت پوچھ یوں یہ حال مرا دل نہیں لگا
جینا ہوا محال مرا دل نہیں لگا
مت روکنا مجھے نہیں رہنا یہاں کبھی
گھر اپنا خود سنبھال مرا دل نہیں لگا
ہوتی نہیں ہے چیز میسر کوئی یہاں
کرتے ہو تم کمال مرا دل نہیں لگا
ناچو یہاں پہ گاؤ بجاؤ گٹار بھی
پاؤ لڈی دھمال مرا دل نہیں لگا
بیمار ہو گیا ہوں پریشان ہوں بہت
یوں مت کرو سوال مرا دل نہیں لگا
بنگلہ یہ کوٹھی کار نہیں چاہیے مجھے
اپنا رکھو خیال مرا دل نہیں لگا
شہزاد کیسے اب میں گزارہ کرو یہاں
ہونے کو اب ہے سال مرا دل نہیں لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






