ہم نے برباد کر لیا خود کو
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالہم نے برباد کر لیا خود کو
کیونکہ ہم زندگی کے تھے ہی نہیں
کیسی مجبوری کیسے سمجھوتے
باخدا! عاجزی کے تھے ہی نہیں
خوب مہنگا پڑا خدا ہم کو
فطرتاً بندگی کے تھے ہی نہیں
اِس قدر یاد کیوں کیا ہم کو
ہم تمہاری کمی کے تھے ہی نہیں
خاک اُڑاتی تھی جس گلی ہم نے
یاراں ہم اُس گلی کے تھے ہی نہیں
عمر بھر اپنی کی گئی خواہش
اور بھلا ہم کسی کے تھے ہی نہیں
اِک سفر کی تھکن سے چور رہے
پر مسافر کبھی کے تھے ہی نہیں
تا ابد سُود رنج کا کھایا
کہ ازل سے خُوشی کے تھے ہی نہیں
ہم کو دھوکا دیا اندھیروں نے
اور ستم روشنی کے تھے ہی نہیں
ہوں تباہ حال پر نہیں افسوس
یُوں کہ شرمندگی کے تھے ہی نہیں
لب ترے دیکھ کر لگی ہے پیاس
ورنہ ہم تشنگی کے تھے ہی نہیں
نیچ جذبے ہوئے، کمینے خواب
ورنہ ہر دوسری کے تھے ہی نہیں
جانے کس نے جگا دیا ہم کو
نیند تھے خفتگی کے تھے ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






