ہم نے پایا ہے محبت میں خسارہ جاناں
Poet: muhammad faizan munghi By: muhammad faizan, Jhelumہم نے پایا ہے محبت میں خسارہ جاناں
تو نے پوچھا ہی نہیں حال ہمارا جاناں
رات گہری تھی سمندر بھی بہت ظالم تھا
دور کر دیتی تھی ہر لہر کنارا جاناں
تیری زلفوں میں مہک تھی کہ وہ جادو تھا
تیری آنکھوں میں چمک تھی کہ شرارا جاناں
سب مجھے چھوڑ گئے ، اور کسی کا سمجھے
تم نہ چھوڑو مجھے اب یار خدارا جاناں
راہ سے گزرے تھے نہ لوٹ کہ دیکھا تو نے
میں نے منڈیر سے جھانکا تو پکارا جاناں
شہر کا شہر مجھے تم پہ فدا دکھتا ہے
ہر گلی ہوتا رہا چرچا تمھارا جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






