ہم پہ اتنی التفات کیوں
Poet: NADEEM MURAD By: NADEEM MURAD, umtata RSA ساؤت افریکاہم پہ اتنی التفات کیوں
ہو نہ ہو کوئی ہے بات کیوں
مختصر ملن کی رات کیوں
بے خودی ہے بے ثبات کیوں
عاشقی اور احتیاط کیوں
روز ہو نہ واردات کیوں
عاشقی کا کھیل اک نظر
اتنی لمبی یہ بساط کیوں
تیرے گیسوؤں کا ہے سحر
کالی اتنی چاند رات کیوں
ملنے آؤ ہم سے روز ہی
چاندنی کی ایک رات کیوں
عشق وشق میں ہے سب روا
اونچی نیچی ذات پات کیوں
تار دل تو ٹوٹا ہے مرا
دُکھ رہی ہے کائنات کیوں
ہجر کے عظیم کوہسار
پائیے کوئی نشاط کیوں
دوریوں کا کم عزاب تھا
اور پھر پل صراط کیوں
اب کے تو ہوا بھی ساتھ تھی
پھر ہوئی ہمِیں کو مات کیوں
پھر سے ایک عشق کیجئے
دل جگر ہیں کھنڈرات کیوں
صبح تو ہوئی تھی بس ابھی
ہو گئی ہے پھر سے رات کیوں
ہم وہ شاعری نہ کر سکھے
ہم کو وہ ملے ثبات کیوں
ہم ہر اک پرکھ میں رہ گئے
ہو ندیم اب نجات کیوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






