ہم پہ اتنی التفات کیوں

Poet: NADEEM MURAD By: NADEEM MURAD, umtata RSA ساؤت افریکا

ہم پہ اتنی التفات کیوں
ہو نہ ہو کوئی ہے بات کیوں

مختصر ملن کی رات کیوں
بے خودی ہے بے ثبات کیوں

عاشقی اور احتیاط کیوں
روز ہو نہ واردات کیوں

عاشقی کا کھیل اک نظر
اتنی لمبی یہ بساط کیوں

تیرے گیسوؤں کا ہے سحر
کالی اتنی چاند رات کیوں

ملنے آؤ ہم سے روز ہی
چاندنی کی ایک رات کیوں

عشق وشق میں ہے سب روا
اونچی نیچی ذات پات کیوں

تار دل تو ٹوٹا ہے مرا
دُکھ رہی ہے کائنات کیوں

ہجر کے عظیم کوہسار
پائیے کوئی نشاط کیوں

دوریوں کا کم عزاب تھا
اور پھر پل صراط کیوں

اب کے تو ہوا بھی ساتھ تھی
پھر ہوئی ہمِیں کو مات کیوں

پھر سے ایک عشق کیجئے
دل جگر ہیں کھنڈرات کیوں

صبح تو ہوئی تھی بس ابھی
ہو گئی ہے پھر سے رات کیوں

ہم وہ شاعری نہ کر سکھے
ہم کو وہ ملے ثبات کیوں

ہم ہر اک پرکھ میں رہ گئے
ہو ندیم اب نجات کیوں
 

Rate it:
Views: 443
11 Sep, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL