ہم پیار میں

Poet: UA By: UA, Lahore

تم کو بھول کر اس دنیا میں چین کہیں نہ پائیں گے
میرے جیسا اور کوئی بھی آپ کہیں نہ پائیں گے

ان سے مل کر کہنا ہے جو شاید کہہ نہ پائیں
ان کو دیکھ کے اپنی باتیں بھول جائیں گے

مجھ کو اپنے سامنے پاکر شاید وہ حیران بھی ہوں
نظریں اٹھا کر دیکھیں گے سوچیں گے مسکرائیں گے

میری آنکھوں میں جو سپنے آتے جاتے رہتے ہیں
ڈرتے ہیں تعبیر سے پہلے ٹوٹ تو نہیں جائیں گے

ہم نے اپنی آنکھوں میں جو خواب سجا کر رکھے ہیں
ہم کو یقیں ہے اک دن وہ تعبیریں پا ہی جائیں گے

آپ کہیں تو چھوڑ دیں ہنس کے ساری دنیا کی دولت
سونے چاندی سے بڑھ کر ہم پیار میں خوشیاں پائیں گے

ساری دنیا ایک طرف اور شوق ہمارا ایک طرف
اپنے دل کی خاطر ہم دنیا سے ٹکرا جائیں گے

شوق کی خاطر جینا مرنا پھر دنیا سے کیسا ڈرنا
قدم بڑھاتے جائیں گے ہر منزل سامنے پائیں گے

نہ تم نے گر اقرار کیا نہ الفت کا اظہار کیا
قسم نہیں پر جیتے جی ہم جیتے نہ رہ پائیں گے

ہم کو یاد وہ کرتے ہوں گے ہم یہ سوچیں کبھی کبھی
ان کی آنکھوں میں بھی گزرے لمحے کبھی لہرائیں گے

عظمٰی خوابوں کی نگری میں کب تک ایسے چلنا ہے
جب تک جیون چلنا ہے یہ سپنے تو ہم سجائیں گے

Rate it:
Views: 1445
03 Feb, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL